عشق پیچے کی طرح۔۔۔

درخت کی دونوں شاخیں پتوں کے غلاف میں ڈھکی ہونے کے باوجود بھی جھلکتی تھیں۔ ان کے مختلف وجود یوں یکجا تھے کہ معلوم ہوتا تھا ایک ہی ہیں۔

مضبوط شاخ جھکی ہوئی شاخ کو اپنے سے لپیٹ کر زندگی عطا کرتی ہے۔ اسکی نشونما میں سارا کمال مضبوط شاخ کا ہے، ورنہ وہ تو کب کی ختم ہوجاتی۔

درخت سے ٹیک کئے دو اور سائے ہیں۔۔ یکجا. ایک سایہ ہونہی ہوتا ہے۔۔ خود سے اتنا قریب کے قدرت بھی نہ چھین سکے۔۔ اور خود سے اتنا دور کے روشنی پڑتے ہی رنگ کھودے۔ اپنا اصل مٹانے میں اسے دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ سایہ پگھل جاتا ہے جب سورج کی کرنیں پڑتی ہیں۔ سایہ تپش برداشت ہی نہیں کرتا۔ سایہ جھوٹ بولتا ہے، وہ کبھی سائیبان بن نہیں سکتا۔

ایک آنکھ نم تھی آنسو بہتے چلے جاتے تھے، دوسری یوں چپ تھی گویا احساس سے عاری ہو۔ حالانکہ جو چپ ہوتا ہے، بعض اوقات صرف وہی محسوس کرسکتا ہے۔ احساس کا معراج اظہار کی کیفیت سے ماورا ہونا ہے۔  ۔

خدا بھی شاید ایک احساس ہے۔ سب سے سچا احساس۔۔

ماریہ عمران۔

Advertisements

32 thoughts on “عشق پیچے کی طرح۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s