سرخ گلاب کی پتیوں کو دھیرے دھیرے شاخ سے الگ کرتے ہوئے وہ اپنی ہی دنیا مین مگن تھی۔ دیوار سے ٹیک کئے، سفید سلک پشواس میں ملبوس وہ نہ جانے کتنی ہی دیر سے اپنی جگہ بیٹھی زمیں کو تک رہی تھی۔ آنکھیں دیکھو تو لگتا تھا برسوں کی جاگی ہو۔۔۔ چہرے سے بھی ایسی شدید تھکن عیان تھی کہ معلوم ہوتا صدیوں کا کوئی جوگ پالا ہو۔ یا پھر جس طرح کسی ملاح کو تمام کشتیان جلا کر اپنی آخری امانت سونپنے کی دیر ہو، وہ بھی اپنی زندگی کسی جھونکے میں کھو دینے کی منتظر ہو۔

تم یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو؟ میں کب سے دیکھتا ہوں تم اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔۔ کس بات کا غم ہے تمہیں، کس مراد کو دل میں لئے پال رہی ہو؟

مجھے کیوں کوئی غم ہوگا بابا۔ خوشی غمی سے اپنے رشتے تو میں توڑ آئی ہوں۔ یہ بھی بھلا کوئی معنی رکھتے ہیں؟

بیٹے پھر تم یہاں قبرستان میں کیا لینے آتی ہو؟ مُردوں سے دل لگانے پرکونسا انہیں زندگی مل جاتی ہے؟ زندگی تو زندوں سے ملتی ہے۔ لین دین سے۔ تعلقات سے۔ جسم اور روح کو جوڑ لینے سے۔

بابا روح کو جوڑنا ہی تو چایتی ہوں۔ پر مجھے سکون نہیں ملتا۔ جسکا وجود بنجارہ ہو اسے کہیں پھول راس نہیں آتے۔۔۔

وجود زمین ہے بیٹے۔ زمین کبھی بانجھ نہیں ہوتی۔ دعا سب کچھ بدل دیتی ہے۔ ذات اور وجود میں دعا ہی پیاپبر بنی ہوتی ہے۔ کیا تمہیں زات کی تلاش نہیں؟

گلاب کا عرق اسکی انگلیوں کو لال کر ریا تھا۔ یا پھر شاید کوئی کانٹا چبھا تھا۔

ماریہ عمران۔

About these ads