Tread softly because you tread on my dreams.

لقمہ، لقمہ اجل۔

تم نے اس کے منہ سے نوالہ کیوں چھینا؟ وہ کب سے بھوکی بیٹھی ہے تم نے اپنی بھوک میں اسکا حق مار ڈالا! ندیدی نہ ہو تو!۔

ماں نے بڑی بیٹی کو ڈانٹا۔ بڑی بیٹی جو چھہ سال کی تھی، اپنی سی چھوٹی دو سالہ بہن کو دیکھ کر زبان چڑانے لگی۔ جواب کچھ نہ دیا، البتہ آنکھیں کہتیں تھیں کہ امّاں! بھوک تو میری بھی نہیں مٹی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد دونوں لڑکیاں سڑک کے کنارے کھیلنے میں مصروف ہوگئیں۔ بچپن کے انمول رنگوں کو اپنے مٹی میں اٹے، پھٹے کپڑوں کے دامن میں سمیٹتے ہوئے بھوک پیاس سب بھول کر اٹھکیلیاں کرنے لگیں۔ میں تمہیں پکڑوں گی نہیں تم مجھے نہیں پکڑ سکتیں، یہی شور ان کے ہنسنے کی آوازوں کے ساتھ چہار سو پھیل گیا گویا زندگی حسیں ہوگئی۔ ماں بھی سکون سے فٹ پاتھ پر ٹیک لگائے آنکھیں موند کر بیٹھ گئی۔

سچ ہے کوئی کب تک خالی کنویں میں جھانک جھانک کر روتا ہے؟ زندگی کا کام تو چلنا ہےسو وہ چلتی رہتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔ـ ـ۔۔۔۔۔ ـ۔ ۔۔۔۔۔۔

تقریبا دس منٹ بعد اچانک ایک کالے رنگ کی بڑی پجارو فاصلہ پر آکر رکتی ہے۔ چھوٹی بچی کھیلنے میں مگن رہتی ہے جبکہ بڑی پورے انہماک سے گاڑی کی طرف تکنے لگتی ہے۔ پھر کسی سوچ کے تحت ادھر بڑھ جاتی ہے اور کھڑکی کھٹکا کر آواز دیتی ہے۔ صاب! اماری ماں بوت بیمار اے! وہ فٹ پاتھ پر آرام کرتی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولتی ہے۔ کچھ مدد کردو صاب! امیں کجھ روپیہ دے دو!۔۔

اپنی معصومانہ آواز میں منمناتے ہوئے اسے ایک دم خیال آتا ہے کہ کہیں صاب نے دو منٹ پہلے اسے بہن کے ساتھ کھیلتے ہوئے نہ دیکھ لیا ہوـ یا پھر کہیں امّاں نے ادھر دیکھ کر آواز لگادی توسارا جھوٹ پکڑا جائے گا اور بھیک بھی نہیں ملیگی۔ وہ جھٹ سے اللہ جی سے دعا کرتی ہے کہ ایسا نہ ہو اور پوری امید سے صاب کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔

صاب جو پہلے سے اس جانب متوجہ ہوتے ہیں اسے پاس دیکھ کر خوشی سے مسکراتے ہیں۔ اور دروازہ کھول کر باہر نکل آتے ہیں۔

منّی! تمہیں پیسے چاہئے ہیں؟ آو میرے ساتھ چلو میں تمہیں جھولوں پر بھی لے جاونگا اور ایک پیاری سی فراک بھی دلواونگا! ادھر آو گاڑی میں۔۔۔ وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ بڑی بیٹی جو انہیں حیرت سے دیکھ رہی ہوتی ہے، فورا ایک قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ اس نے تو اماں کی بیماری کا بہانہ بنایا تھا۔۔ انہیں کیسے پتہ چلا فراک کے بارے میں؟

ڈرو نہیں میں تمہیں ابھی واپس لے آونگا۔۔۔ آو میرے ساتھ! یہ کہتے ہوئے وہ اسے اپنے قریب کھینچھتے ہیں اور وہ جو اب تک ڈری رہی تھی، امّاں کو پکار اٹھتی ہے۔ امّاں بھی فورا ہی آنکھ کھول لیتی ہیں مگر اس سے پہلے کو وہ معاملہ سمجھ سکیں، صاحب بڑی بیٹی کو گاڑی میں دھکیل کر دروازہ بند کر چکے ہوتے ہیں۔ امّاں ہائے بچاوٗ بچاوٗ میری لڑکی کو کہاں لئے جا رہا ہے کہتے ہوئے اس جانب لپکتی ہیں اور گاڑی کے پیچھے پیدل بھاگنے لگتی ہیں۔ گاڑی والا تیزی سے فرار ہوجاتا ہے اور امّاں دل پکڑ کر رہ جاتی ہیں۔

آج ان کے سامنے سے ان کی بیٹی کسی وحشی کی بھوک کی نظر ہونے لگی ہے اور وہ بے بسی سے صرف خالی کنواں دیکھے جا تی ہیں۔

ــ ــ ـــ ـ ـــ ــ ـ ــ

13/03/15. ماریہ عمران

16 responses

  1. so terrific

    March 14, 2015 at 1:15 pm

  2. Marvelous writing Maria, as-usual. Urdu comes to you at such an ease and simplicity, that one wishes your write-ups to never encounter the end…

    March 14, 2015 at 1:59 pm

  3. Tragic. Woah. You be awesome. When is your book coming out girl? :p

    March 14, 2015 at 6:22 pm

    • Thank you, Mahaah!🙂

      Book? Bus dekho kabhi aa bhi jaegi. ;3

      March 14, 2015 at 7:34 pm

      • Aa hi jaye tou behtar hai😉

        March 15, 2015 at 1:06 am

  4. ainee(mmammii)

    maria mujhe rulla dia apnay ajj mashallah bhut umdaah

    March 14, 2015 at 6:27 pm

    • Maaami!❤
      Mae chahti thi koi is kahani ko mehsoos kar sakay… Thank you for reading! Apko yahan daikh ke acha laga. Jzk:)

      March 14, 2015 at 7:18 pm

  5. amazing! really really amazing.

    March 15, 2015 at 1:12 am

  6. Maria this is tragically beautiful. Love love love the play of words and language!

    March 15, 2015 at 6:20 pm

  7. very well described the every day inhuman and shameful happenings with poor people.

    March 26, 2015 at 2:53 pm

  8. 😥

    September 25, 2015 at 1:16 pm

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s