تمہارے نام۔

ہاں تو نہیں ہو نا تم پاس۔  میں نے کیا کرنا ہے۔  جینا ہے۔  اور ویسے تمہارے بغیر کوئی مر بھی نہیں رہی۔  تم نے کہا تھا نا کوئی نہیں مرتا کسی کے لئے۔  ٹھیک ہی کہا تھا۔  میں صبح اٹھتی ہوں، کام پہ جاتی ہوں، گھرآتی ہوں تو بچوں کو دیکھ لیتی ہوں۔ سب کچھ تو ویسا ہی ہے۔  بس تم نہیں ہو اور سچ میں اب تو مجھے فرق بھی نہیں پڑتا۔  میں یاد نہیں کرتی تمہیں۔  کبھی ایک لمحہ کو شاید کربھی لیتی ہوںگی مگر یاد نہیں۔  آخری بار صدیوں پہلے روئی تھی۔  اب سیکھ لیا ہے میں نے کسی کے لئے نہ رونے کا ڈھنگ۔  آگیا ہے مجھے سب کچھ۔  سب کچھ۔  سب کچھ۔  سب۔  سب۔           تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ ہہاں سب خیر ہے۔  میری بیٹی اور میرا بیٹا دونوں ٹھیک ہیں۔  مزے میں ہیں۔  ہمارے پاس کھانے کو ایک سے ایک چیز ہوتی ہے۔  کبھی خالی پیٹ تڑپتے نہیں سوتے۔  یہ لوگ اسکول جاتے ہیں، کام میں ہاتھ بھی بٹاتے ہیں، شکایت نہیں کرتے۔  ہم میں سے کوئی بھی شکایت نہیں کرتا۔  خوش رہنا سیکھ گئے ہیں۔  رحم نہیں مانگتے۔  اپنا اپنا جیتے ہیں۔  ساتھ دیتے ہیں۔  بہت سی چیزوں میں ساتھ دیتے ہیں۔۔۔     تمہارے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔  واقعی نہیں پڑتا۔  اب یہ نہ سمجھنا کہ بار بار دہرا کر جتا رہی ہوں تاکہ تمہیں برا لگے۔  نہیں میں صرف تمہیں تمہارے سکون کے لئے بتا رہی ہوں کہ کبھی تم پلٹ کر آنے کا سوچو تو اُس خیال کو بھی پھانسی دے دینا۔  ہماری زندگیاں تباہ مت کرنا۔  دیکھو ہم سب بہت خوش ہیں۔  میں تمہیں یاد بھی نہیں کرتی اب۔

تم کیا وہاں خوش ہو؟  وہ تمہارا خیال رکھتی ہے؟  تم اب بھی کھانے میں بھنڈی اور گوشت شوق سے کھاتے ہو؟  رات کو بیچ میں اٹھ کر پانی پیتے ہو؟  سگریٹ لینا چھوڑ دی ہے؟  نہ چھوڑی ہو تو اب چھوڑ دو۔  یہ زندگی کو ختم کرتی ہے۔  ویسے مجھے فرق نہیں پڑتا مطلب مجھے فرق ہی کیا پڑنا ہے!  مجھے تو اس کی بُو بھی نہیں آتی اب۔  سوچ رہی ہوں  کبھی میرا بیٹا نہ پئے۔  اسے ہرگز ایسا نہیں کرنے دونگی۔    تم اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھنا۔                                                رات کافی نکل گئی ہے۔  چلتی ہوں۔

Advertisements

23 thoughts on “تمہارے نام۔

  1. Ali Adnan says:

    بھگو بھگو کے مارنے سے بھی اتنا درد نہیں ہوتا ہوگا جتنا یہ پڑھ کر اسے ہوا ھو گا ۔ ۔ ۔
    بہت اعلی تحریر

  2. muhammad sarosh says:

    جواب شکوہ

    ابھی کل ہی احمد ملنے آیا۔ بڑا ہو گیا ہے۔ بالکل میرا ناک نقشہ ہے۔ بس آنکھیں تمہاری ہیں۔ ثمینہ دفتر سے رات گئے لوٹتی ہے۔ وہ آیا تو گھر میں بس میں ہی تھا۔ اور تمہاری دو آنکھیں۔ رات کھانے کے بعد ایک عجیب سوال پوچھنے لگا- ‘کیا آپ کو اب بھی امی سے محبت ہے؟’ میز پر سکوت طاری تھا۔ پھراس کا سوال ہمارے بیچ دلدلی مچھر کی طرح بھنبھنانے لگا۔

    یاد ہے بچپن میں ٹائم مشین کے بارے میں بہت سوال کرتا تھا۔ کہنے لگا پاپا اگر آپ ٹائم مشین سے پچیس سال پیچھے لوٹ جائیں تو کیا
    آپ اس بار خود کو بدل سکیں گے؟ مدتوں بعد اس کی زبان سے یوں ‘پاپا’ سننا مجھے بہت اچھا لگا۔ تم تو جانتی ہو رات کا کھانا سگریٹ کے بغیر مجھ سے ہضم نہیں ہوتا۔ میں نے ماچس سے ایک سگریٹ سلگا لیا۔ نجانے ایک دم اسے کیا ہوا’ ایک جھٹکے سے اٹھا اور یہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا کہ پاپا آپ کبھی نہیں بدلیں گے۔ میں نے اسے روکا نہیں۔ تمہیں بھی نہیں روکا تھا۔

    سوچتا ہوں اس نے غور سے سگریٹ نہیں دیکھا ہوگا۔ مارون بہت مہنگا ہو گیا ہے’ اب ڈپلومیٹ پیتا ہوں

    اپنا بہت خیال رکھنا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s