جواب شکوہ

In the Nuance of Light

یہ خط ‘ ایک ساتھی لکھاری کے خط “تمہارے نام” کے جواب میں لکھا گیا ہے۔

ابھی کل ہی احمد ملنے آیا۔ بڑا ہو گیا ہے۔ بالکل میرا ناک نقشہ ہے۔ بس آنکھیں تمہاری ہیں۔ ثمینہ دفتر سے رات گئے لوٹتی ہے۔ وہ آیا تو گھر میں بس میں ہی تھا۔ اور تمہاری دو بُھوری آنکھیں۔ رات کھانے کے بعد ایک عجیب سوال پوچھنے لگا- ‘کیا آپ کو اب بھی امی سے محبت ہے؟’ میز پر سکوت طاری تھا۔ پھراس کا سوال ہمارے بیچ دلدلی مچھر کی طرح بھنبھنانے لگا۔

یاد ہے بچپن میں ٹائم مشین کے بارے میں بہت سوال کرتا تھا۔ کہنے لگا پاپا اگر آپ ٹائم مشین سے پچیس سال پیچھے لوٹ جائیں تو کیا اس بار خود کو بدل سکیں گے؟ مدتوں بعد اس کی زبان سے یوں ‘پاپا’ سننا مجھے بہت اچھا لگا۔ تم تو جانتی ہو رات کا کھانا سگریٹ کے بغیر…

View original post 76 more words

Advertisements

11 thoughts on “جواب شکوہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s