soliloquy

123

I could still show the pieces of your then-polluting, now-rotten heart, and prove to the world it was not I who was mistaken. I can also present myself as an evidence — a heap of mess, covering blisters caused by the burst of these emotions that never wait too long to spill. Ah, your name still holds magic.

130

تمہاری یاد آج بھی زخموں پر نمک کا کام کرتی ہے۔۔۔ چاہے یہ الفاظ استعمال کے ساتھ اپنی وقعت کھو ہی کیوں نہ چکے ہوں۔ ہاں، جلتے پر تیل، زخموں پر نمک۔  اچھا خاصا تمہیں بھول چکی تھی کہ آج ڈرائیور نے کہا کوئی دروازے پر پھول چھوڑ گیا ہے۔  پھول تو تمہاری طرف سے نہ تھے مگر ایسا تم کتنا کیا کرتے تھے!  صدیاں تو بیت گئی ہونگی؟۔۔۔  اب کون سے پھول، کہاں کی خوشبو!  ہاں مگر پھول تو آئے تھے۔  میں نے ڈرائیورسے پوچھا ان پر کوئی کارڈ لگا ہے کیا؟  جواب ملا، ہاں شاید۔  تو میں نے اس سے گذارش کی کہ خود ہی پڑھ کے بتا دے۔  مجھے تو ان سے وحشت آتی ہے!  بیچارا حیرت سے دیکھ ریا تھا، پڑھ بھی دیا۔  کسی اور نے بھجوائے تھے اور بھجوائے بھی کسی اور کے نام تھے!  میں تو سن کر ہنسنے لگی۔  ڈرائیور کو کہا ساتھ والے بنگلے میں جو سارہ بی بی رہتی ہیں انہیں کو دے آوٗ۔  ان کے لئے آیا ہے اور دیکھو یہاں پہنچ گیا!  کوریر والے سے غلطی ہوگئی ہوگی۔  غلطیاں تو خیر سب ہی سے ہوتی ہیں۔  مجھ سے بھی ہوئی تھی۔

میں لاوٗنج سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔

145

3 thoughts on “soliloquy

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.