سوئے محبت// For still remaining

mivt_randomlyabstractجب کبھی
میں ماضی کے ان پیلے اوراق کو پلٹتی ہوں
اجڑی محبت کی کسیلی بساند آتی ہے
جیسے لاش
رکھے رکھے سڑ چکی ہو
ساتھ ہی
ایک تصویر امید کی
نظروں کے سامنے ناچنے لگتی ہے
کہ جب وہ ہچکی لے کے ٹوٹی تھی
اور محبت
ان ہی تاروں، جگنووٗں، تتلیوں اور پھولوں کے درمیان
بے دردی سے چاکی تھی
ایک جنازہ دوبارہ اٹھتا ہے
ایک ماتم پھر سے ہوتا ہے


Every time
I open
This yellow book of our lost story
A funeral takes place, again
Not of hope, for it died long ago ( and nothing pierces my heart more than my brave warrior’s last breath )
But of every moment still saved from the blots

Sometimes it plays in slow motion,
Other times, happens in a blink.
Each time though, one more piece dies
Of what is left
And how I curse this mass for still remaining.

شورش

مجھ سے اس کا شور برداشت نہیں ہوتا۔  چھن، چھن، چھن، ڈھب ڈھب۔  زنجیروں میں جکڑا یہ پاگل آدمی نکلنے کو بےقرار رہتا ہے۔  جانتا بھی ہے باہراس کا کوئی غمخوار نیہں۔  یہاں قید ہے تو باہر کونسی آزادی ہے؟  میں اسے عموماً نیند کی گولی دے کر سُلا دیتی ہوں۔  مگر پھر بہت دفعہ یہ ضد پر اڑ جاتا ہے اور مجھ سے اس کا سنبھالنا مشکل — بلکہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔  دھاڑتا ہے:  شکست قبول نہ کرنے سے حقیقت ٹل نہیں جاتی!  چھپانے سے کب عذاب گھٹتا ہے، وہ تو اور بڑھ جاتا ہے!  میں آنکھیں موند کر ایسی بن جاتی ہوں جیسے سنا ہی نہ ہو۔  اور کبھی کبھار اسے چڑانے کو کانوں میں انگلیاں  بھی ٹھونس لیتی ہوں۔  مگر وہ کہاں چپ ہوتا ہے!  ہنسنے لگتا ہے۔  مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میرا مذاق اڑا رہا ہو۔  بالآخر میں ہی ہار مانتی ہوں، پیروں میں پایل باندھ کر دوڑنے لگ جاتی ہوں۔  جلد ہی اسکی آواز میرے قہقہوں میں ملتی ہےاور ہم دونوں ایک ہی رنگ میں گُھل جاتے ہیں۔  ہم بالکل ایک سے ہو جاتے ہیں۔

(10 April 16)

Tumharay Naam.

Haan tou nahi ho na tum paas. Main ne kia karna hai. Jeena hai. Aur wesay tumharay baghair koi mar bhi nahi rahi. Tum ne kaha tha na koi nahi marta kisi ke liye. Theek hi kaha tha. Main subah uthti hun, kaam pe jaati hun, ghar aati hun tou bachchon ko dekh leti hun. Sab kuch tou wesa hi hai. Bus tum nahi ho aur sach me ab tou mujhe farq bhi nahi parta. Mein yaad nahi karti tumhain. Kabhi ek lamhay ko shayad kar bhi leti hongi magar yaad nahi. Aakhri baar sadiyon pehley roi thi. Ab seekh lia hai mein ne kisi kay liye na ronay ka dhang. Aa gaya hai mujhe sab kuch. Sab kuch. Sab kuch. Sab. Sab.                    Tumhain batana chahti hun ke yahan sab khair hai. Meri beti aur mera beta dono theek hain. Mazay me hain. Hamaray pas khanay ko aik se aik cheez hoti hai. Kabhi khali pait taraptay nahi sotay. Ye loug school jatay hain, kaam me haath bhi bataty hain, shikayat nahi kartay. Hum me se koi bhi shikayat nahi karta. Khush rehna seekh gaye hain. Rehm nahi mangtay. Apna apna jeetay hain. Saath detay hain. Bohat si cheezon me saath detay hain…
Tumharay honay na honay se koi farq nahi parta. Waqai nahi parta. Ab ye na samajhna kay bar bar duhraa kar jataa rahi hun taakay tumhain bura lagay. Nahi mein sirf tumharay sukoon ke liye bata rahi hun ke kabhi tum palatt kar aanay ka socho tou uss khayal ko bhi phaansi de dena. Hamari zindagiyan tabah mat karna. Dekho hum sab bohat khush hain. Main tumhain yaad bhi nahi karti ab.

Kia tum wahan khush ho? Wo tumara khayal rakhti hai? Tum ab bhi khanay me bhindi aur gosht shoq se khatay ho? Raat ko beech me uth kar paani peetay ho? Cigarette lena chhor di hai? Na chhori ho tou ab chhor do. Ye zindagi ko khatam karti hai. Wese mujhe farq nahi parta matlab mujhe farq hi kia parna hai! Mujhe tou us ki boo bhi nahi aati ab. Soch rahi hun kabhi mera beta naa piye. Usay hargiz aisa nahi karne dungi. Tum apne ird gird kay logon ka khayal rakhna.                         Raat kaafi nikal gayi hai. Chalti hun.

This is a transliterated version of تمہارے نام [Thank you, Mahaah, for typing it out.]

تمہارے نام۔

ہاں تو نہیں ہو نا تم پاس۔  میں نے کیا کرنا ہے۔  جینا ہے۔  اور ویسے تمہارے بغیر کوئی مر بھی نہیں رہی۔  تم نے کہا تھا نا کوئی نہیں مرتا کسی کے لئے۔  ٹھیک ہی کہا تھا۔  میں صبح اٹھتی ہوں، کام پہ جاتی ہوں، گھرآتی ہوں تو بچوں کو دیکھ لیتی ہوں۔ سب کچھ تو ویسا ہی ہے۔  بس تم نہیں ہو اور سچ میں اب تو مجھے فرق بھی نہیں پڑتا۔  میں یاد نہیں کرتی تمہیں۔  کبھی ایک لمحہ کو شاید کربھی لیتی ہوںگی مگر یاد نہیں۔  آخری بار صدیوں پہلے روئی تھی۔  اب سیکھ لیا ہے میں نے کسی کے لئے نہ رونے کا ڈھنگ۔  آگیا ہے مجھے سب کچھ۔  سب کچھ۔  سب کچھ۔  سب۔  سب۔           تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ ہہاں سب خیر ہے۔  میری بیٹی اور میرا بیٹا دونوں ٹھیک ہیں۔  مزے میں ہیں۔  ہمارے پاس کھانے کو ایک سے ایک چیز ہوتی ہے۔  کبھی خالی پیٹ تڑپتے نہیں سوتے۔  یہ لوگ اسکول جاتے ہیں، کام میں ہاتھ بھی بٹاتے ہیں، شکایت نہیں کرتے۔  ہم میں سے کوئی بھی شکایت نہیں کرتا۔  خوش رہنا سیکھ گئے ہیں۔  رحم نہیں مانگتے۔  اپنا اپنا جیتے ہیں۔  ساتھ دیتے ہیں۔  بہت سی چیزوں میں ساتھ دیتے ہیں۔۔۔     تمہارے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔  واقعی نہیں پڑتا۔  اب یہ نہ سمجھنا کہ بار بار دہرا کر جتا رہی ہوں تاکہ تمہیں برا لگے۔  نہیں میں صرف تمہیں تمہارے سکون کے لئے بتا رہی ہوں کہ کبھی تم پلٹ کر آنے کا سوچو تو اُس خیال کو بھی پھانسی دے دینا۔  ہماری زندگیاں تباہ مت کرنا۔  دیکھو ہم سب بہت خوش ہیں۔  میں تمہیں یاد بھی نہیں کرتی اب۔

تم کیا وہاں خوش ہو؟  وہ تمہارا خیال رکھتی ہے؟  تم اب بھی کھانے میں بھنڈی اور گوشت شوق سے کھاتے ہو؟  رات کو بیچ میں اٹھ کر پانی پیتے ہو؟  سگریٹ لینا چھوڑ دی ہے؟  نہ چھوڑی ہو تو اب چھوڑ دو۔  یہ زندگی کو ختم کرتی ہے۔  ویسے مجھے فرق نہیں پڑتا مطلب مجھے فرق ہی کیا پڑنا ہے!  مجھے تو اس کی بُو بھی نہیں آتی اب۔  سوچ رہی ہوں  کبھی میرا بیٹا نہ پئے۔  اسے ہرگز ایسا نہیں کرنے دونگی۔    تم اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھنا۔                                                رات کافی نکل گئی ہے۔  چلتی ہوں۔

Daam-e-deevangi—دامِ دیوانگی

خوف، غم اورجستجو کی تنگ گلیوں سے نکل کر

کوئی رنگوں میں کھوئے اب ناچنے لگا ہے

اسکے پیروں پر بندھی رسی کُھل کر اتر جو گئی ہے

اور اب ایک پایل

چھن، چھن، چھن بولتا ہے۔

شور مچتا ہے پر آوازوں کی دنیا خالی ہے، کچھ ہے جو آسمانوں سے اتر کر رقص کرتا ہے

کچھ ہے جو

پیچھے سایوں میں چھپ کر روتا ہے۔

اندھیرا اب ختم ہے تو روشنیوں کی چکاچوند بھی بیکار ہے

مگر دل نہ جانے کس کی تھاپ پر نکلنے کو بیقرار ہے

ایسا لگتا ہے جیسے تمام عالم

اس ایک لمحہ کی چاہ میں سب ہی وارنے کو تیار ہے۔

Khauf, gham, aur justuju ki tang galyon se nikal kar, koi rangon me khoye ab nachnay laga hae

Uskay pairon par bandhi rassi khul kar utar jo gai hae

Aur ab aik payal

Chann, chann, chann bolta hae.

 

Shor machta hae par awazon ki dunya khali hae, kuch hae jo asmaanon se utar kar raqs karta hae

Kuch hae jo

Peechay sayon me chupa rota hae.

 

Andhaira ab khatam hae tou roshnion ki chaka-chond bhi baikar hae

Magar dil na janay kis ki thaap par nikalnay ko beqaraar hae

Aesa lagta hae jesay tamaam alam

Is aik lamhay ki chah me sab hi waarnay ko tayyar hae.

ماریہ عمران

MLD_

Bandagi supardagi~

Insaan khuda banna chahta hae. Isay apnay wujood ki takmeel samajhta hae yani ke wo khudai hasil karay. Us ki paristish ki jaye din raat. Jism mandir, rooh zindagi! Subah kay sitaray ke chamaknay se raat ka chaand madham honay tak, shor se sannatay aur sannatay se shor tak, takleef me aur rahat me, har qadam sirf “ehsaas”. Aik aiteraaf. Aik naam. Koi kahay, aap aali maqaam! Inayat ho!

Kuch loug beharhaal ibadat nahi kar patay. Bandagi pe poora nahi utartay aur phir zamana unhain thokron pe chor deta hay. Aam mazahib ki tarah yahan bhi itaab nazil hota hay, aur sach maanye tou khudai ka dawa karnay walay inn lakhon khudaon me rehmaniat ki phir aik ramaq bhi baqi nahi rehti!

لقمہ، لقمہ اجل۔

تم نے اس کے منہ سے نوالہ کیوں چھینا؟ وہ کب سے بھوکی بیٹھی ہے تم نے اپنی بھوک میں اسکا حق مار ڈالا! ندیدی نہ ہو تو!۔

ماں نے بڑی بیٹی کو ڈانٹا۔ بڑی بیٹی جو چھہ سال کی تھی، اپنی سی چھوٹی دو سالہ بہن کو دیکھ کر زبان چڑانے لگی۔ جواب کچھ نہ دیا، البتہ آنکھیں کہتیں تھیں کہ امّاں! بھوک تو میری بھی نہیں مٹی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد دونوں لڑکیاں سڑک کے کنارے کھیلنے میں مصروف ہوگئیں۔ بچپن کے انمول رنگوں کو اپنے مٹی میں اٹے، پھٹے کپڑوں کے دامن میں سمیٹتے ہوئے بھوک پیاس سب بھول کر اٹھکیلیاں کرنے لگیں۔ میں تمہیں پکڑوں گی نہیں تم مجھے نہیں پکڑ سکتیں، یہی شور ان کے ہنسنے کی آوازوں کے ساتھ چہار سو پھیل گیا گویا زندگی حسیں ہوگئی۔ ماں بھی سکون سے فٹ پاتھ پر ٹیک لگائے آنکھیں موند کر بیٹھ گئی۔

سچ ہے کوئی کب تک خالی کنویں میں جھانک جھانک کر روتا ہے؟ زندگی کا کام تو چلنا ہےسو وہ چلتی رہتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔ـ ـ۔۔۔۔۔ ـ۔ ۔۔۔۔۔۔

تقریبا دس منٹ بعد اچانک ایک کالے رنگ کی بڑی پجارو فاصلہ پر آکر رکتی ہے۔ چھوٹی بچی کھیلنے میں مگن رہتی ہے جبکہ بڑی پورے انہماک سے گاڑی کی طرف تکنے لگتی ہے۔ پھر کسی سوچ کے تحت ادھر بڑھ جاتی ہے اور کھڑکی کھٹکا کر آواز دیتی ہے۔ صاب! اماری ماں بوت بیمار اے! وہ فٹ پاتھ پر آرام کرتی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولتی ہے۔ کچھ مدد کردو صاب! امیں کجھ روپیہ دے دو!۔۔

اپنی معصومانہ آواز میں منمناتے ہوئے اسے ایک دم خیال آتا ہے کہ کہیں صاب نے دو منٹ پہلے اسے بہن کے ساتھ کھیلتے ہوئے نہ دیکھ لیا ہوـ یا پھر کہیں امّاں نے ادھر دیکھ کر آواز لگادی توسارا جھوٹ پکڑا جائے گا اور بھیک بھی نہیں ملیگی۔ وہ جھٹ سے اللہ جی سے دعا کرتی ہے کہ ایسا نہ ہو اور پوری امید سے صاب کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔

صاب جو پہلے سے اس جانب متوجہ ہوتے ہیں اسے پاس دیکھ کر خوشی سے مسکراتے ہیں۔ اور دروازہ کھول کر باہر نکل آتے ہیں۔

منّی! تمہیں پیسے چاہئے ہیں؟ آو میرے ساتھ چلو میں تمہیں جھولوں پر بھی لے جاونگا اور ایک پیاری سی فراک بھی دلواونگا! ادھر آو گاڑی میں۔۔۔ وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ بڑی بیٹی جو انہیں حیرت سے دیکھ رہی ہوتی ہے، فورا ایک قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ اس نے تو اماں کی بیماری کا بہانہ بنایا تھا۔۔ انہیں کیسے پتہ چلا فراک کے بارے میں؟

ڈرو نہیں میں تمہیں ابھی واپس لے آونگا۔۔۔ آو میرے ساتھ! یہ کہتے ہوئے وہ اسے اپنے قریب کھینچھتے ہیں اور وہ جو اب تک ڈری رہی تھی، امّاں کو پکار اٹھتی ہے۔ امّاں بھی فورا ہی آنکھ کھول لیتی ہیں مگر اس سے پہلے کو وہ معاملہ سمجھ سکیں، صاحب بڑی بیٹی کو گاڑی میں دھکیل کر دروازہ بند کر چکے ہوتے ہیں۔ امّاں ہائے بچاوٗ بچاوٗ میری لڑکی کو کہاں لئے جا رہا ہے کہتے ہوئے اس جانب لپکتی ہیں اور گاڑی کے پیچھے پیدل بھاگنے لگتی ہیں۔ گاڑی والا تیزی سے فرار ہوجاتا ہے اور امّاں دل پکڑ کر رہ جاتی ہیں۔

آج ان کے سامنے سے ان کی بیٹی کسی وحشی کی بھوک کی نظر ہونے لگی ہے اور وہ بے بسی سے صرف خالی کنواں دیکھے جا تی ہیں۔

ــ ــ ـــ ـ ـــ ــ ـ ــ

13/03/15. ماریہ عمران

پت جھڑ

تم بےعزتی کے اس احساس کو نہیں سمجھ سکتے جس کے زیرِبار میں روز حصہ حصہ ٹوٹ رہی ہوں۔  میرا حرف حرف متاثر ہے چوٹ کھائے اس پرندے کی طرح جو اپنے صاف، سفید پروں پر خون کی باریک لکیریں کھنچتے تو دیکھتا ہے مگر بےبسی سے اپنے پَر پھڑپھڑاتے دم توڑ دینے ہی کو آخری آزادی کی صورت سمجھتا ہے۔  اس کے آنسو میرے دل کی دیوار پہ گرتے ہیں، تکلیف ہوتی ہے مجھے جب یہ دیواریں کمزور ہو کر کِر کِر چٹخنے لگتی ہیں۔

تمہاری بےاعتنائی ایک سِل کی مانند میرے وجود پہ رکھی ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں اپنی ہی قبر میں دھنسی چلے جا رہی ہوں۔  آواز دینے کو کوئی یار نہیں ملتا لیکن تمہیں فرق بھی نہیں پڑتا کیونکہ تم صرف کھیلنا جانتے ہو۔  کھیلنا صرف، اور جیتنے سے تمہیں سروکار نہیں ہوتا لیکن شکست دینے سے تمہاری انا کو تسکین ملتی ہے۔  اس کے لئے تم کسی بھی حد سے گذر سکتے ہوکیونکہ تم ایک مرد ہو!  آزاد، خودمختار، بیباک۔۔۔ میں عورت ہوں اپنے جزبات کی غلام، تمہیں جتاتی ہوں تو جَتاتی نہیں۔ نہ کوئی جشن ہوتا ہے نہ ماتم، دونوں ہی مسکرا کر اپنے اپنے راستے چل دیتے ہیں۔  پھر کون صدیوں روئے کسے معلوم!۔۔

12:55— 25/1/15.

PJ

نحوست۔

نحوست اس کو نہیں کہتے
جو تم کسی کے گھر جاؤ
اور یکے بعد دیگرے
کوئی آفت گرجائے
کہ برتنوں کا کھنکنا
یا جھولوں کا ٹوٹ جانا
تو اٹل ہے

البتہ ہاں
جب ایک ہی دیس میں رہتے
کبھی ہندو کبھی مسلم
کبھی ’کرسچن‘ کبھی سنّی
کبھی اہلِ تشیع
کبھی بت کے پوجنے والے کو
کبھی رب کی کھانے والے کو
کبھی بچے کو کبھی بوڑھے کو
کبھی عورت کو کبھی بیوی کو
مار دیا جائے

صرف یہ کہہ کرکہ
اسکا مذہب میرا نہیں
یا اسکا اٹھنا لکھنا پڑھنا
میرے اٹھنے لکھنے پڑھنے
سے مختلف ہے
اسکے بستہ میں جو قرآن ہے
اسکا ورق ورق الٹا ہے
یا اس کے گلے میں
مسیحائی کا جو ہار ہے
میں اسے پسند نہیں کرتا

سو میری پسند اور یہ میری زمیں
میرا ہے یہ گھر میں اس کا امیں
یہ منحوس یے‘۔’

ماریہ عمران۔

Dedicated to the Christian couple mercilessly killed, and others dying in ‘the land of pure’. Bloodlust is boundless; it surely doesn’t bother categorizing before bringing you to your coffin.

Similar posts:

خاموشی

تم نے آبشاروں کو چپ ہوتے دیکھا ہے؟ کبھی کبھی اپنی تمام شان و شوکت میں بھی  پانی ساکت ہوجاتا ہے، آوازیں ماند پڑجاتی ہیں۔ پھر وہ بہتا نہیں گرتا ہے۔ ہلکے، ہلکےـ صرف کسی حکم کی تعمیل کرنے کوـ مگر سنو، پانی بےجان نہیں ہوتاـ یہی بوندیں جب پتھروں پہ پڑتی ہیں تو انہیں توڑ کررکھ دیتی ہیں۔۔۔ سوراخ کردیتی ہیں ان میں۔ پانی خاموش ہوتا ہے مگر اسکی بوند بوند بلا کا شور پالتی ہےـ ایسا کہ جاننے والے پر ہیبت طاری کردے۔
تم نے پتھروں کو ٹوٹتے دیکھا ہے؟


Tum ne aabsharon ko chup hotay dekha hae? Kabhi kabhi apni tamaam shaan-o-shokat mai bhi paani sak’t hojata hae, awaazain maand parjati haen. Phir wo behta nahi, girta hae. Halkay, halkay. Sirf kisi hukam ki taameel karny ko. Magar suno, paani be-jan nahi hota. Yehi boondain jab patharon pe parrti haen tou unhay torr ke rakh deti haen… Sorakh kardeti haen inn me. Paani khamosh hota hae magar iski boond boond bala ka shor palti hae. Aesa ke ‘jannay waly’ par haibat tari karday.
Tum ne patharon ko toot’ty dekha hae?

ماتم۔

سرخ گلاب کی پتیوں کو دھیرے دھیرے شاخ سے الگ کرتے ہوئے وہ اپنی ہی دنیا مین مگن تھی۔ دیوار سے ٹیک کئے، سفید سلک پشواس میں ملبوس وہ نہ جانے کتنی ہی دیر سے اپنی جگہ بیٹھی زمیں کو تک رہی تھی۔ آنکھیں دیکھو تو لگتا تھا برسوں کی جاگی ہو۔۔۔ چہرے سے بھی ایسی شدید تھکن عیان تھی کہ معلوم ہوتا صدیوں کا کوئی جوگ پالا ہو۔ یا پھر جس طرح کسی ملاح کو تمام کشتیان جلا کر اپنی آخری امانت سونپنے کی دیر ہو، وہ بھی اپنی زندگی کسی جھونکے میں کھو دینے کی منتظر ہو۔

تم یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو؟ میں کب سے دیکھتا ہوں تم اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔۔ کس بات کا غم ہے تمہیں، کس مراد کو دل میں لئے پال رہی ہو؟

مجھے کیوں کوئی غم ہوگا بابا۔ خوشی غمی سے اپنے رشتے تو میں توڑ آئی ہوں۔ یہ بھی بھلا کوئی معنی رکھتے ہیں؟

بیٹے پھر تم یہاں قبرستان میں کیا لینے آتی ہو؟ مُردوں سے دل لگانے پرکونسا انہیں زندگی مل جاتی ہے؟ زندگی تو زندوں سے ملتی ہے۔ لین دین سے۔ تعلقات سے۔ جسم اور روح کو جوڑ لینے سے۔

بابا روح کو جوڑنا ہی تو چایتی ہوں۔ پر مجھے سکون نہیں ملتا۔ جسکا وجود بنجارہ ہو اسے کہیں پھول راس نہیں آتے۔۔۔

وجود زمین ہے بیٹے۔ زمین کبھی بانجھ نہیں ہوتی۔ دعا سب کچھ بدل دیتی ہے۔ ذات اور وجود میں دعا ہی پیاپبر بنی ہوتی ہے۔ کیا تمہیں زات کی تلاش نہیں؟

گلاب کا عرق اسکی انگلیوں کو لال کر ریا تھا۔ یا پھر شاید کوئی کانٹا چبھا تھا۔

ماریہ عمران۔

سنگ مرمر کا فرش پریوں کے محل میں
شیشے کے خول میں پانی کی بوندیں
جھڑی در جھڑی گری جا رہی ہیں
کہ معلوم ہوتا یے
کسی نے جادو کر رکھا ہو۔۔۔

مگر ان کا وقار انہیں پھسلنے نہیں دیتا۔

جھڑی در جھڑی یہ گری جا رہی ہیں
مگر ان کا ٹہراو
انہیں کھنکنے نہیں دیتا۔

موسیقی کی تھاپ میں
دھن در دھن اُتر آ رہی ہیں
شیشے کے خول میں پانی کی بوندیں۔۔۔

قوس و قزح کے رنگ اپنائے
آبشار سے یوں نکلتی جائیں
کہ جیسے
فنا و بقا کے تمام جھگڑے
کہیں دور چھوڑ آئی ہوں
جاوداں ہونے کو۔۔۔ ۔

ماریہ عمران۔


Sang-e-marmar ka farsh hae paryon ke mehal men
Sheeshay ke khol me paani ki boonden
Jharri dar jharri giri ja rahi haen
ke maloom hota hae
kisi ne jaado kar rakha ho… Continue reading

عشق پیچے کی طرح۔۔۔

درخت کی دونوں شاخیں پتوں کے غلاف میں ڈھکی ہونے کے باوجود بھی جھلکتی تھیں۔ ان کے مختلف وجود یوں یکجا تھے کہ معلوم ہوتا تھا ایک ہی ہیں۔

مضبوط شاخ جھکی ہوئی شاخ کو اپنے سے لپیٹ کر زندگی عطا کرتی ہے۔ اسکی نشونما میں سارا کمال مضبوط شاخ کا ہے، ورنہ وہ تو کب کی ختم ہوجاتی۔

درخت سے ٹیک کئے دو اور سائے ہیں۔۔ یکجا. ایک سایہ ہونہی ہوتا ہے۔۔ خود سے اتنا قریب کے قدرت بھی نہ چھین سکے۔۔ اور خود سے اتنا دور کے روشنی پڑتے ہی رنگ کھودے۔ اپنا اصل مٹانے میں اسے دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ سایہ پگھل جاتا ہے جب سورج کی کرنیں پڑتی ہیں۔ سایہ تپش برداشت ہی نہیں کرتا۔ سایہ جھوٹ بولتا ہے، وہ کبھی سائیبان بن نہیں سکتا۔

ایک آنکھ نم تھی آنسو بہتے چلے جاتے تھے، دوسری یوں چپ تھی گویا احساس سے عاری ہو۔ حالانکہ جو چپ ہوتا ہے، بعض اوقات صرف وہی محسوس کرسکتا ہے۔ احساس کا معراج اظہار کی کیفیت سے ماورا ہونا ہے۔  ۔

خدا بھی شاید ایک احساس ہے۔ سب سے سچا احساس۔۔

ماریہ عمران۔

آگ

ہر جگہ آگ تھی۔۔۔ آگ اور پانی۔۔۔ آگ اور آنسو۔۔۔۔ آگ۔۔۔ ۔
اس کی آنکھوں سے آنسو یوں متواتر گر رہے تھے جیسے کبھی نہ رکیں گے — مگر اشکوں کا یہ سیلاب اس آگ کو بجھانے میں ناکام تھا جو اس کے وجود کو جلا کر خاک کر رہی تھی۔۔۔

ہرے رنگ کا ویلوٹ گاوٗن جو اسکے پاوٗں تک کو چھوتا تھا اب تیزی سے شعلے پکڑ ریا تھا۔ وہ چیخ رہی تھی، چلا رہی تھی — اس کے پاس کوئی نہیں تھا۔ آگ کے شعلے رفتہ رفتہ اس کے گورے پیروں سے ہوتے جسم پہ اوپر تک چڑھنے لگے — پھر وہ بھی چپ ہوگئی۔۔۔ کوئی فائدہ نھیں تھا چیخنے کا۔ ۔ اسے کون سنتا وہاں؟
اس کی ٹانگیں مکمل طور پرآگ کی گرفت میں تھیں۔ وہ دم سادھے یہ سب دیکھ ریی تھی۔ اس کے آنسو لب تک پہنچنے کے بجائے اب اس کے رخسار پہ ہی دم توڑنے لگے تھے۔

آگ سفاک ہوتی ھے — بارش ایمان ہوتی ھے — صاف شفاف ایمان۔۔۔۔ مگر جس برستی بارش سے سفاک آگ کے شعلے بجھ نہ سکیں وہ برسات بھی کیا برسات ہوئی؟۔۔۔۔۔۔

اس کا دماغ سن ہو رہا تھا۔۔۔ اور اس کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔۔ ماضی کے تمام قصے ایک آخری بار اس کے دماغ میں فلم کی طرح چلنے لگے — پتھر کے دل لے کر پیدا ہونے والے کچھ لوگ، اپنی ذات کی بھڑکتی آگ میں کیسے دوسروں کے وجود بھسم کردیتے ہیں۔۔۔۔ ۔ ۔

ماریہ عمران۔

تدبیر تقدیر

تم شمع بجھانا چاہتے ہو
مندر کو گرانا چاہتے ہو
مسجد سے نہ آئے صدا کوئی
ہر شور مٹانا چاہتے ہو
آدم نے چھوا جو شجرِ ممنوع
مسکرائی خلقت اور کیا استقبال یوں
بخشی کنجی نئی اک دنیا کی
تم گناہگار ٹہرانا چاہتے ہو
دو دل جو ملیں، سُر تال کھلیں
محبت جو کریں بے لوث کریں
انجام سے پہلے کیوں آخر
تم عنوان مٹانا چاہتے ہو
اے اہل زمیں ذرا یہ تو بتاؤ
کیوں خود کو تھکانا چایتے ہو؟

~ماریہ عمران

kaghaz_kishtiکاغز کی کشتی تھی
جو ھم نے مل کر بنائی تھی
اسے پانی میں چلتا دیکھ کر
کیسے خوش ھوجاتے تھے
بہت سے خواب تھے
جو ھم نے مل کر سجائے تھے
جاگتی انکھوں سے۔۔
جنھیں پورا کرنے کی
تم نے قسم کھائی تھی
بیت سے راز تھے میرے
جو بطور امانت
تمھارے پاس رکھوائے تھے
ایسے راز
جنکی بھنک دنیا میں
کسی دوسرے کو نھیں۔
پھر کیوں؟

تتلی

titli3

پیاری تتلی۔۔ تم اڑتی کیوں نہیں ہو؟ یہ درندوں کی دنیا ہے۔۔ یہاں بھلا تمھارا کیا کام؟

تم اڑ جاؤ ۔۔ ایسا کرو ھمیشہ کے لئے اڑ جاؤ۔۔

یہ دنیا تمھارے لئے نہیں ہے۔۔ تم اپنے باغ میں جا کر گھومو، پھرو، میں کچھ نہیں کہوں گا۔

ہاں اگر یہیں بیٹھی رھیں تو میں تمھیں مَسل دونگا۔

 

مگر میں جاؤں کہاں پیارے؟ میرے پَر تو تم کاٹ چکے ہو؟

اس رنگین دنیا میں بےشک میرا کوئی کام نہیں۔ مگر تم خدارا مجھے یہیں رہنے دو۔۔ درندوں کی دنیا میں۔۔

ذات کے پرندے بہرحال ‘خودی’ کے درندوں سے بہتر ہوتے ہیں۔۔

 اکیلی اس دنیا کی طرف گئی تو واپسی ناممکن ہوجائےگی۔ تم سمجھتے کیوں نھیں ہو؟

کشکول

میں خاموشی سےکہانی بْنتی ہوں۔ تم کہاں مصروف ھو ؟’

میرے خیالات توسیلاب کی مانند ھیں۔ تم بند کیوں لگوانا چاھتے ھو؟

آجاؤ  مل بیٹھ کے ھم کردار سنبھال لیتے ھیں۔ تم مجنوں بنو گے یا رام پری؟

تم غصّہ کیوں ھوتے ھو؟ میں تو مذاق کر رھی تھی۔

ہاں ہاں میں واقعی مذاق کر رھی تھی۔ لو ہنس لو اب تم۔۔’ـ’

وہ کیا جانے۔ کیسے جانے کیوں کر جانے آخر۔

کہتا ھے اپنی ذات کے حصّے پنہاں رکھے ھیں میں نے۔ اب زرا بتلاؤ! ذات بھی کبھی چھپ سکی ھے پیارے؟

ہاں البتّہ اگر کوئی جاننا ھی نہ چاھتا ھو۔

ذات تو چھپا دی جاتی ھے۔ بند کردی جاتی ھے۔ گم کردی جاتی ھے۔حالات کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ھے۔

ذات تو خون ھے! بہتا رہتا ھے، رستا رہتا ھے۔ گرچہ اگر تم چاہو تو دیکھو۔ مگر تم چاہو گے کیوں؟

!سنو دیکھو تو ذرا یہاں پر زخم ھے کوئی۔ خون رستا رہتا ھے۔۔یہ کیسی تکلیف ھے؟

!مگر تم تو سمجھتے ھو میں ھنستی ھوں، مسکراتی ھوں، بات کرتی ھوں تو میں خوش ھوں

!خوشی گر اس کو کہتے ھیں تو خدایا! خوشی نہ دینا کسی کو

رگِ جاں سے جو لپٹ جائے، روح تک کو جو نگل جائے وہ خوشی کیا ھے؟

‘تم کہتے ھو خامشی کی زباں پہ کمال حاصل ھے تمھیں۔

مجھے ذرا بتلاؤ میری ذات کے دریچے وا کیوں نہ کئے اب تک؟

میرے در و دیوار تو پگھلنے لگے ھیں، زنگ آلود ھونے لگے ھیں۔۔

تو کیا تم یہی چاھتے تھے؟ میرے مندر کی گھنٹی ھمیشہ یوں ھی بجا کر بھاگ جاؤ گے؟

یہ زنجیریں سڑنے لگی ھیں پیارے۔ مجھے ڈر ھے یہ ٹوٹ نہ جائیں۔۔

کیونکہ اگر یہ ٹوٹ گئیں تو میں بھی بکھر جاوں گی۔

تو یوں کرو کہ تم چلے جاو۔ ھاں ھمیشہ کے لئے۔

میں روز روز ایک ھی سزا نہیں جی سکتی پیارے۔ مجھے ایک ھی دفعہ میں توڑ پھوڑ دو؟’

میں تم سے خوشیاں تو نھیں مانگ رھی ہوں جو تم اس قدر حقارت سے دیکھتے ھو۔

میں تو صرف اپنی وفاؤں کی جزا مانگ رہی ھوں۔۔

!یہ دیکھو کشکول لئے آج تمھارے مزار پہ حاضر ھوں، بھکاری بنی بیٹھی ھوں۔۔

یوں کرو کہ اپنی خاک سے مجھے معطر ھونے دو۔۔۔یوں کرو کہ مجھے امر کر دو۔۔۔

ماریہ عمران۔ٍٍ

Because she said it was raining.

Mae dosry shehar me rehti hun
Mae tum jesi ho hi nahi sakti
Mera karna dharna mery rasm o riwaj
Mera dharam bharam mera kappra libaas
Kbhe tum jesa ye ho nhi sakta.
Mae jeeti alag hun marti alag hun
Khati alag hun peeti alag hun
Tmhary shehar me baarish hoti hogi
Meray shehar me sirf khoon hy barasta
Meray shehar me aag hae jalti
Meray shehar me lashein haen girti
Tum apny shehar ki baarish ko
Kuch waqt yahan kia bhej nhi sakteen?

rain

Written for Mahwi, and one other friend.

She said it was raining. I told her it wasn’t. She complained that we live in the same city. So I wrote to her that. So yes, we live in the same city. But you see, each of us lives in a city of their own – or perhaps a world of their own: unique and personal.

That’s one meaning to it. The other is in reference to someone who really doesn’t live in the same city – or country.

Apologies to those who couldn’t understand the Urdu-English text above and found it nothing more than a bibbery-a-bibbery-boo! (If possible, I’ll post a translation someday soon.)

C: Maria I. *Randomly Abstract*