2014, Urdu musings

ماتم۔

سرخ گلاب کی پتیوں کو دھیرے دھیرے شاخ سے الگ کرتے ہوئے وہ اپنی ہی دنیا مین مگن تھی۔ دیوار سے ٹیک کئے، سفید سلک پشواس میں ملبوس وہ نہ جانے کتنی ہی دیر سے اپنی جگہ بیٹھی زمیں کو تک رہی تھی۔ آنکھیں دیکھو تو لگتا تھا برسوں کی جاگی ہو۔۔۔ چہرے سے بھی ایسی شدید تھکن عیان تھی کہ معلوم ہوتا صدیوں کا کوئی جوگ پالا ہو۔ یا پھر جس طرح کسی ملاح کو تمام کشتیان جلا کر اپنی آخری امانت سونپنے کی دیر ہو، وہ بھی اپنی زندگی کسی جھونکے میں کھو دینے کی منتظر ہو۔

تم یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو؟ میں کب سے دیکھتا ہوں تم اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔۔ کس بات کا غم ہے تمہیں، کس مراد کو دل میں لئے پال رہی ہو؟

مجھے کیوں کوئی غم ہوگا بابا۔ خوشی غمی سے اپنے رشتے تو میں توڑ آئی ہوں۔ یہ بھی بھلا کوئی معنی رکھتے ہیں؟

بیٹے پھر تم یہاں قبرستان میں کیا لینے آتی ہو؟ مُردوں سے دل لگانے پرکونسا انہیں زندگی مل جاتی ہے؟ زندگی تو زندوں سے ملتی ہے۔ لین دین سے۔ تعلقات سے۔ جسم اور روح کو جوڑ لینے سے۔

بابا روح کو جوڑنا ہی تو چایتی ہوں۔ پر مجھے سکون نہیں ملتا۔ جسکا وجود بنجارہ ہو اسے کہیں پھول راس نہیں آتے۔۔۔

وجود زمین ہے بیٹے۔ زمین کبھی بانجھ نہیں ہوتی۔ دعا سب کچھ بدل دیتی ہے۔ ذات اور وجود میں دعا ہی پیاپبر بنی ہوتی ہے۔ کیا تمہیں زات کی تلاش نہیں؟

گلاب کا عرق اسکی انگلیوں کو لال کر ریا تھا۔ یا پھر شاید کوئی کانٹا چبھا تھا۔

ماریہ عمران۔

Standard
2014, Urdu musings

سنگ مرمر کا فرش پریوں کے محل میں
شیشے کے خول میں پانی کی بوندیں
جھڑی در جھڑی گری جا رہی ہیں
کہ معلوم ہوتا یے
کسی نے جادو کر رکھا ہو۔۔۔

مگر ان کا وقار انہیں پھسلنے نہیں دیتا۔

جھڑی در جھڑی یہ گری جا رہی ہیں
مگر ان کا ٹہراو
انہیں کھنکنے نہیں دیتا۔

موسیقی کی تھاپ میں
دھن در دھن اُتر آ رہی ہیں
شیشے کے خول میں پانی کی بوندیں۔۔۔

قوس و قزح کے رنگ اپنائے
آبشار سے یوں نکلتی جائیں
کہ جیسے
فنا و بقا کے تمام جھگڑے
کہیں دور چھوڑ آئی ہوں
جاوداں ہونے کو۔۔۔ ۔

ماریہ عمران۔


Sang-e-marmar ka farsh hae paryon ke mehal men
Sheeshay ke khol me paani ki boonden
Jharri dar jharri giri ja rahi haen
ke maloom hota hae
kisi ne jaado kar rakha ho… Continue reading

Standard
2014, Urdu musings

عشق پیچے کی طرح۔۔۔

درخت کی دونوں شاخیں پتوں کے غلاف میں ڈھکی ہونے کے باوجود بھی جھلکتی تھیں۔ ان کے مختلف وجود یوں یکجا تھے کہ معلوم ہوتا تھا ایک ہی ہیں۔

مضبوط شاخ جھکی ہوئی شاخ کو اپنے سے لپیٹ کر زندگی عطا کرتی ہے۔ اسکی نشونما میں سارا کمال مضبوط شاخ کا ہے، ورنہ وہ تو کب کی ختم ہوجاتی۔

درخت سے ٹیک کئے دو اور سائے ہیں۔۔ یکجا. ایک سایہ ہونہی ہوتا ہے۔۔ خود سے اتنا قریب کے قدرت بھی نہ چھین سکے۔۔ اور خود سے اتنا دور کے روشنی پڑتے ہی رنگ کھودے۔ اپنا اصل مٹانے میں اسے دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ سایہ پگھل جاتا ہے جب سورج کی کرنیں پڑتی ہیں۔ سایہ تپش برداشت ہی نہیں کرتا۔ سایہ جھوٹ بولتا ہے، وہ کبھی سائیبان بن نہیں سکتا۔

ایک آنکھ نم تھی آنسو بہتے چلے جاتے تھے، دوسری یوں چپ تھی گویا احساس سے عاری ہو۔ حالانکہ جو چپ ہوتا ہے، بعض اوقات صرف وہی محسوس کرسکتا ہے۔ احساس کا معراج اظہار کی کیفیت سے ماورا ہونا ہے۔  ۔

خدا بھی شاید ایک احساس ہے۔ سب سے سچا احساس۔۔

ماریہ عمران۔

Standard
2014, Urdu musings

آگ

ہر جگہ آگ تھی۔۔۔ آگ اور پانی۔۔۔ آگ اور آنسو۔۔۔۔ آگ۔۔۔ ۔
اس کی آنکھوں سے آنسو یوں متواتر گر رہے تھے جیسے کبھی نہ رکیں گے — مگر اشکوں کا یہ سیلاب اس آگ کو بجھانے میں ناکام تھا جو اس کے وجود کو جلا کر خاک کر رہی تھی۔۔۔

ہرے رنگ کا ویلوٹ گاوٗن جو اسکے پاوٗں تک کو چھوتا تھا اب تیزی سے شعلے پکڑ ریا تھا۔ وہ چیخ رہی تھی، چلا رہی تھی — اس کے پاس کوئی نہیں تھا۔ آگ کے شعلے رفتہ رفتہ اس کے گورے پیروں سے ہوتے جسم پہ اوپر تک چڑھنے لگے — پھر وہ بھی چپ ہوگئی۔۔۔ کوئی فائدہ نھیں تھا چیخنے کا۔ ۔ اسے کون سنتا وہاں؟
اس کی ٹانگیں مکمل طور پرآگ کی گرفت میں تھیں۔ وہ دم سادھے یہ سب دیکھ ریی تھی۔ اس کے آنسو لب تک پہنچنے کے بجائے اب اس کے رخسار پہ ہی دم توڑنے لگے تھے۔

آگ سفاک ہوتی ھے — بارش ایمان ہوتی ھے — صاف شفاف ایمان۔۔۔۔ مگر جس برستی بارش سے سفاک آگ کے شعلے بجھ نہ سکیں وہ برسات بھی کیا برسات ہوئی؟۔۔۔۔۔۔

اس کا دماغ سن ہو رہا تھا۔۔۔ اور اس کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔۔ ماضی کے تمام قصے ایک آخری بار اس کے دماغ میں فلم کی طرح چلنے لگے — پتھر کے دل لے کر پیدا ہونے والے کچھ لوگ، اپنی ذات کی بھڑکتی آگ میں کیسے دوسروں کے وجود بھسم کردیتے ہیں۔۔۔۔ ۔ ۔

ماریہ عمران۔

Standard
2014, Urdu musings

تدبیر تقدیر

تم شمع بجھانا چاہتے ہو
مندر کو گرانا چاہتے ہو
مسجد سے نہ آئے صدا کوئی
ہر شور مٹانا چاہتے ہو
آدم نے چھوا جو شجرِ ممنوع
مسکرائی خلقت اور کیا استقبال یوں
بخشی کنجی نئی اک دنیا کی
تم گناہگار ٹہرانا چاہتے ہو
دو دل جو ملیں، سُر تال کھلیں
محبت جو کریں بے لوث کریں
انجام سے پہلے کیوں آخر
تم عنوان مٹانا چاہتے ہو
اے اہل زمیں ذرا یہ تو بتاؤ
کیوں خود کو تھکانا چایتے ہو؟

~ماریہ عمران

Standard
2014, Urdu musings

kaghaz_kishtiکاغز کی کشتی تھی
جو ھم نے مل کر بنائی تھی
اسے پانی میں چلتا دیکھ کر
کیسے خوش ھوجاتے تھے
بہت سے خواب تھے
جو ھم نے مل کر سجائے تھے
جاگتی انکھوں سے۔۔
جنھیں پورا کرنے کی
تم نے قسم کھائی تھی
بیت سے راز تھے میرے
جو بطور امانت
تمھارے پاس رکھوائے تھے
ایسے راز
جنکی بھنک دنیا میں
کسی دوسرے کو نھیں۔
پھر کیوں؟

Standard
2013, By the roaring waves!, Paintings and Scribblings, Urdu musings

تتلی

titli3

پیاری تتلی۔۔ تم اڑتی کیوں نہیں ہو؟ یہ درندوں کی دنیا ہے۔۔ یہاں بھلا تمھارا کیا کام؟

تم اڑ جاؤ ۔۔ ایسا کرو ھمیشہ کے لئے اڑ جاؤ۔۔

یہ دنیا تمھارے لئے نہیں ہے۔۔ تم اپنے باغ میں جا کر گھومو، پھرو، میں کچھ نہیں کہوں گا۔

ہاں اگر یہیں بیٹھی رھیں تو میں تمھیں مَسل دونگا۔

 

مگر میں جاؤں کہاں پیارے؟ میرے پَر تو تم کاٹ چکے ہو؟

اس رنگین دنیا میں بےشک میرا کوئی کام نہیں۔ مگر تم خدارا مجھے یہیں رہنے دو۔۔ درندوں کی دنیا میں۔۔

ذات کے پرندے بہرحال ‘خودی’ کے درندوں سے بہتر ہوتے ہیں۔۔

 اکیلی اس دنیا کی طرف گئی تو واپسی ناممکن ہوجائےگی۔ تم سمجھتے کیوں نھیں ہو؟

Standard
2013, By the roaring waves!, My Writings, Urdu musings

کشکول

میں خاموشی سےکہانی بْنتی ہوں۔ تم کہاں مصروف ھو ؟’

میرے خیالات توسیلاب کی مانند ھیں۔ تم بند کیوں لگوانا چاھتے ھو؟

آجاؤ  مل بیٹھ کے ھم کردار سنبھال لیتے ھیں۔ تم مجنوں بنو گے یا رام پری؟

تم غصّہ کیوں ھوتے ھو؟ میں تو مذاق کر رھی تھی۔

ہاں ہاں میں واقعی مذاق کر رھی تھی۔ لو ہنس لو اب تم۔۔’ـ’

وہ کیا جانے۔ کیسے جانے کیوں کر جانے آخر۔

کہتا ھے اپنی ذات کے حصّے پنہاں رکھے ھیں میں نے۔ اب زرا بتلاؤ! ذات بھی کبھی چھپ سکی ھے پیارے؟

ہاں البتّہ اگر کوئی جاننا ھی نہ چاھتا ھو۔

ذات تو چھپا دی جاتی ھے۔ بند کردی جاتی ھے۔ گم کردی جاتی ھے۔حالات کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ھے۔

ذات تو خون ھے! بہتا رہتا ھے، رستا رہتا ھے۔ گرچہ اگر تم چاہو تو دیکھو۔ مگر تم چاہو گے کیوں؟

!سنو دیکھو تو ذرا یہاں پر زخم ھے کوئی۔ خون رستا رہتا ھے۔۔یہ کیسی تکلیف ھے؟

!مگر تم تو سمجھتے ھو میں ھنستی ھوں، مسکراتی ھوں، بات کرتی ھوں تو میں خوش ھوں

!خوشی گر اس کو کہتے ھیں تو خدایا! خوشی نہ دینا کسی کو

رگِ جاں سے جو لپٹ جائے، روح تک کو جو نگل جائے وہ خوشی کیا ھے؟

‘تم کہتے ھو خامشی کی زباں پہ کمال حاصل ھے تمھیں۔

مجھے ذرا بتلاؤ میری ذات کے دریچے وا کیوں نہ کئے اب تک؟

میرے در و دیوار تو پگھلنے لگے ھیں، زنگ آلود ھونے لگے ھیں۔۔

تو کیا تم یہی چاھتے تھے؟ میرے مندر کی گھنٹی ھمیشہ یوں ھی بجا کر بھاگ جاؤ گے؟

یہ زنجیریں سڑنے لگی ھیں پیارے۔ مجھے ڈر ھے یہ ٹوٹ نہ جائیں۔۔

کیونکہ اگر یہ ٹوٹ گئیں تو میں بھی بکھر جاوں گی۔

تو یوں کرو کہ تم چلے جاو۔ ھاں ھمیشہ کے لئے۔

میں روز روز ایک ھی سزا نہیں جی سکتی پیارے۔ مجھے ایک ھی دفعہ میں توڑ پھوڑ دو؟’

میں تم سے خوشیاں تو نھیں مانگ رھی ہوں جو تم اس قدر حقارت سے دیکھتے ھو۔

میں تو صرف اپنی وفاؤں کی جزا مانگ رہی ھوں۔۔

!یہ دیکھو کشکول لئے آج تمھارے مزار پہ حاضر ھوں، بھکاری بنی بیٹھی ھوں۔۔

یوں کرو کہ اپنی خاک سے مجھے معطر ھونے دو۔۔۔یوں کرو کہ مجھے امر کر دو۔۔۔

ماریہ عمران۔ٍٍ

Standard
2013, By the roaring waves!, Poems and poetry, Urdu musings

Because she said it was raining.

Mae dosry shehar me rehti hun
Mae tum jesi ho hi nahi sakti
Mera karna dharna mery rasm o riwaj
Mera dharam bharam mera kappra libaas
Kbhe tum jesa ye ho nhi sakta.
Mae jeeti alag hun marti alag hun
Khati alag hun peeti alag hun
Tmhary shehar me baarish hoti hogi
Meray shehar me sirf khoon hy barasta
Meray shehar me aag hae jalti
Meray shehar me lashein haen girti
Tum apny shehar ki baarish ko
Kuch waqt yahan kia bhej nhi sakteen?

rain

Written for Mahwi, and one other friend.

She said it was raining. I told her it wasn’t. She complained that we live in the same city. So I wrote to her that. So yes, we live in the same city. But you see, each of us lives in a city of their own – or perhaps a world of their own: unique and personal.

That’s one meaning to it. The other is in reference to someone who really doesn’t live in the same city – or country.

Apologies to those who couldn’t understand the Urdu-English text above and found it nothing more than a bibbery-a-bibbery-boo! (If possible, I’ll post a translation someday soon.)

C: Maria I. *Randomly Abstract*
Standard