2014, Urdu musings

نحوست۔

نحوست اس کو نہیں کہتے
جو تم کسی کے گھر جاؤ
اور یکے بعد دیگرے
کوئی آفت گرجائے
کہ برتنوں کا کھنکنا
یا جھولوں کا ٹوٹ جانا
تو اٹل ہے

البتہ ہاں
جب ایک ہی دیس میں رہتے
کبھی ہندو کبھی مسلم
کبھی ’کرسچن‘ کبھی سنّی
کبھی اہلِ تشیع
کبھی بت کے پوجنے والے کو
کبھی رب کی کھانے والے کو
کبھی بچے کو کبھی بوڑھے کو
کبھی عورت کو کبھی بیوی کو
مار دیا جائے

صرف یہ کہہ کرکہ
اسکا مذہب میرا نہیں
یا اسکا اٹھنا لکھنا پڑھنا
میرے اٹھنے لکھنے پڑھنے
سے مختلف ہے
اسکے بستہ میں جو قرآن ہے
اسکا ورق ورق الٹا ہے
یا اس کے گلے میں
مسیحائی کا جو ہار ہے
میں اسے پسند نہیں کرتا

سو میری پسند اور یہ میری زمیں
میرا ہے یہ گھر میں اس کا امیں
یہ منحوس یے‘۔’

ماریہ عمران۔

Dedicated to the Christian couple mercilessly killed, and others dying in ‘the land of pure’. Bloodlust is boundless; it surely doesn’t bother categorizing before bringing you to your coffin.

Similar posts:

Standard