2013, By the roaring waves!, My Writings, Urdu musings

کشکول

میں خاموشی سےکہانی بْنتی ہوں۔ تم کہاں مصروف ھو ؟’

میرے خیالات توسیلاب کی مانند ھیں۔ تم بند کیوں لگوانا چاھتے ھو؟

آجاؤ  مل بیٹھ کے ھم کردار سنبھال لیتے ھیں۔ تم مجنوں بنو گے یا رام پری؟

تم غصّہ کیوں ھوتے ھو؟ میں تو مذاق کر رھی تھی۔

ہاں ہاں میں واقعی مذاق کر رھی تھی۔ لو ہنس لو اب تم۔۔’ـ’

وہ کیا جانے۔ کیسے جانے کیوں کر جانے آخر۔

کہتا ھے اپنی ذات کے حصّے پنہاں رکھے ھیں میں نے۔ اب زرا بتلاؤ! ذات بھی کبھی چھپ سکی ھے پیارے؟

ہاں البتّہ اگر کوئی جاننا ھی نہ چاھتا ھو۔

ذات تو چھپا دی جاتی ھے۔ بند کردی جاتی ھے۔ گم کردی جاتی ھے۔حالات کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ھے۔

ذات تو خون ھے! بہتا رہتا ھے، رستا رہتا ھے۔ گرچہ اگر تم چاہو تو دیکھو۔ مگر تم چاہو گے کیوں؟

!سنو دیکھو تو ذرا یہاں پر زخم ھے کوئی۔ خون رستا رہتا ھے۔۔یہ کیسی تکلیف ھے؟

!مگر تم تو سمجھتے ھو میں ھنستی ھوں، مسکراتی ھوں، بات کرتی ھوں تو میں خوش ھوں

!خوشی گر اس کو کہتے ھیں تو خدایا! خوشی نہ دینا کسی کو

رگِ جاں سے جو لپٹ جائے، روح تک کو جو نگل جائے وہ خوشی کیا ھے؟

‘تم کہتے ھو خامشی کی زباں پہ کمال حاصل ھے تمھیں۔

مجھے ذرا بتلاؤ میری ذات کے دریچے وا کیوں نہ کئے اب تک؟

میرے در و دیوار تو پگھلنے لگے ھیں، زنگ آلود ھونے لگے ھیں۔۔

تو کیا تم یہی چاھتے تھے؟ میرے مندر کی گھنٹی ھمیشہ یوں ھی بجا کر بھاگ جاؤ گے؟

یہ زنجیریں سڑنے لگی ھیں پیارے۔ مجھے ڈر ھے یہ ٹوٹ نہ جائیں۔۔

کیونکہ اگر یہ ٹوٹ گئیں تو میں بھی بکھر جاوں گی۔

تو یوں کرو کہ تم چلے جاو۔ ھاں ھمیشہ کے لئے۔

میں روز روز ایک ھی سزا نہیں جی سکتی پیارے۔ مجھے ایک ھی دفعہ میں توڑ پھوڑ دو؟’

میں تم سے خوشیاں تو نھیں مانگ رھی ہوں جو تم اس قدر حقارت سے دیکھتے ھو۔

میں تو صرف اپنی وفاؤں کی جزا مانگ رہی ھوں۔۔

!یہ دیکھو کشکول لئے آج تمھارے مزار پہ حاضر ھوں، بھکاری بنی بیٹھی ھوں۔۔

یوں کرو کہ اپنی خاک سے مجھے معطر ھونے دو۔۔۔یوں کرو کہ مجھے امر کر دو۔۔۔

ماریہ عمران۔ٍٍ

Standard