2015, Urdu musings

لقمہ، لقمہ اجل۔

تم نے اس کے منہ سے نوالہ کیوں چھینا؟ وہ کب سے بھوکی بیٹھی ہے تم نے اپنی بھوک میں اسکا حق مار ڈالا! ندیدی نہ ہو تو!۔

ماں نے بڑی بیٹی کو ڈانٹا۔ بڑی بیٹی جو چھہ سال کی تھی، اپنی سی چھوٹی دو سالہ بہن کو دیکھ کر زبان چڑانے لگی۔ جواب کچھ نہ دیا، البتہ آنکھیں کہتیں تھیں کہ امّاں! بھوک تو میری بھی نہیں مٹی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد دونوں لڑکیاں سڑک کے کنارے کھیلنے میں مصروف ہوگئیں۔ بچپن کے انمول رنگوں کو اپنے مٹی میں اٹے، پھٹے کپڑوں کے دامن میں سمیٹتے ہوئے بھوک پیاس سب بھول کر اٹھکیلیاں کرنے لگیں۔ میں تمہیں پکڑوں گی نہیں تم مجھے نہیں پکڑ سکتیں، یہی شور ان کے ہنسنے کی آوازوں کے ساتھ چہار سو پھیل گیا گویا زندگی حسیں ہوگئی۔ ماں بھی سکون سے فٹ پاتھ پر ٹیک لگائے آنکھیں موند کر بیٹھ گئی۔

سچ ہے کوئی کب تک خالی کنویں میں جھانک جھانک کر روتا ہے؟ زندگی کا کام تو چلنا ہےسو وہ چلتی رہتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔ـ ـ۔۔۔۔۔ ـ۔ ۔۔۔۔۔۔

تقریبا دس منٹ بعد اچانک ایک کالے رنگ کی بڑی پجارو فاصلہ پر آکر رکتی ہے۔ چھوٹی بچی کھیلنے میں مگن رہتی ہے جبکہ بڑی پورے انہماک سے گاڑی کی طرف تکنے لگتی ہے۔ پھر کسی سوچ کے تحت ادھر بڑھ جاتی ہے اور کھڑکی کھٹکا کر آواز دیتی ہے۔ صاب! اماری ماں بوت بیمار اے! وہ فٹ پاتھ پر آرام کرتی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولتی ہے۔ کچھ مدد کردو صاب! امیں کجھ روپیہ دے دو!۔۔

اپنی معصومانہ آواز میں منمناتے ہوئے اسے ایک دم خیال آتا ہے کہ کہیں صاب نے دو منٹ پہلے اسے بہن کے ساتھ کھیلتے ہوئے نہ دیکھ لیا ہوـ یا پھر کہیں امّاں نے ادھر دیکھ کر آواز لگادی توسارا جھوٹ پکڑا جائے گا اور بھیک بھی نہیں ملیگی۔ وہ جھٹ سے اللہ جی سے دعا کرتی ہے کہ ایسا نہ ہو اور پوری امید سے صاب کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔

صاب جو پہلے سے اس جانب متوجہ ہوتے ہیں اسے پاس دیکھ کر خوشی سے مسکراتے ہیں۔ اور دروازہ کھول کر باہر نکل آتے ہیں۔

منّی! تمہیں پیسے چاہئے ہیں؟ آو میرے ساتھ چلو میں تمہیں جھولوں پر بھی لے جاونگا اور ایک پیاری سی فراک بھی دلواونگا! ادھر آو گاڑی میں۔۔۔ وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ بڑی بیٹی جو انہیں حیرت سے دیکھ رہی ہوتی ہے، فورا ایک قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ اس نے تو اماں کی بیماری کا بہانہ بنایا تھا۔۔ انہیں کیسے پتہ چلا فراک کے بارے میں؟

ڈرو نہیں میں تمہیں ابھی واپس لے آونگا۔۔۔ آو میرے ساتھ! یہ کہتے ہوئے وہ اسے اپنے قریب کھینچھتے ہیں اور وہ جو اب تک ڈری رہی تھی، امّاں کو پکار اٹھتی ہے۔ امّاں بھی فورا ہی آنکھ کھول لیتی ہیں مگر اس سے پہلے کو وہ معاملہ سمجھ سکیں، صاحب بڑی بیٹی کو گاڑی میں دھکیل کر دروازہ بند کر چکے ہوتے ہیں۔ امّاں ہائے بچاوٗ بچاوٗ میری لڑکی کو کہاں لئے جا رہا ہے کہتے ہوئے اس جانب لپکتی ہیں اور گاڑی کے پیچھے پیدل بھاگنے لگتی ہیں۔ گاڑی والا تیزی سے فرار ہوجاتا ہے اور امّاں دل پکڑ کر رہ جاتی ہیں۔

آج ان کے سامنے سے ان کی بیٹی کسی وحشی کی بھوک کی نظر ہونے لگی ہے اور وہ بے بسی سے صرف خالی کنواں دیکھے جا تی ہیں۔

ــ ــ ـــ ـ ـــ ــ ـ ــ

13/03/15. ماریہ عمران

Standard
2015, Urdu musings

پت جھڑ

تم بےعزتی کے اس احساس کو نہیں سمجھ سکتے جس کے زیرِبار میں روز حصہ حصہ ٹوٹ رہی ہوں۔  میرا حرف حرف متاثر ہے چوٹ کھائے اس پرندے کی طرح جو اپنے صاف، سفید پروں پر خون کی باریک لکیریں کھنچتے تو دیکھتا ہے مگر بےبسی سے اپنے پَر پھڑپھڑاتے دم توڑ دینے ہی کو آخری آزادی کی صورت سمجھتا ہے۔  اس کے آنسو میرے دل کی دیوار پہ گرتے ہیں، تکلیف ہوتی ہے مجھے جب یہ دیواریں کمزور ہو کر کِر کِر چٹخنے لگتی ہیں۔

تمہاری بےاعتنائی ایک سِل کی مانند میرے وجود پہ رکھی ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں اپنی ہی قبر میں دھنسی چلے جا رہی ہوں۔  آواز دینے کو کوئی یار نہیں ملتا لیکن تمہیں فرق بھی نہیں پڑتا کیونکہ تم صرف کھیلنا جانتے ہو۔  کھیلنا صرف، اور جیتنے سے تمہیں سروکار نہیں ہوتا لیکن شکست دینے سے تمہاری انا کو تسکین ملتی ہے۔  اس کے لئے تم کسی بھی حد سے گذر سکتے ہوکیونکہ تم ایک مرد ہو!  آزاد، خودمختار، بیباک۔۔۔ میں عورت ہوں اپنے جزبات کی غلام، تمہیں جتاتی ہوں تو جَتاتی نہیں۔ نہ کوئی جشن ہوتا ہے نہ ماتم، دونوں ہی مسکرا کر اپنے اپنے راستے چل دیتے ہیں۔  پھر کون صدیوں روئے کسے معلوم!۔۔

12:55— 25/1/15.

PJ

Standard