2014, Urdu musings

تدبیر تقدیر

تم شمع بجھانا چاہتے ہو
مندر کو گرانا چاہتے ہو
مسجد سے نہ آئے صدا کوئی
ہر شور مٹانا چاہتے ہو
آدم نے چھوا جو شجرِ ممنوع
مسکرائی خلقت اور کیا استقبال یوں
بخشی کنجی نئی اک دنیا کی
تم گناہگار ٹہرانا چاہتے ہو
دو دل جو ملیں، سُر تال کھلیں
محبت جو کریں بے لوث کریں
انجام سے پہلے کیوں آخر
تم عنوان مٹانا چاہتے ہو
اے اہل زمیں ذرا یہ تو بتاؤ
کیوں خود کو تھکانا چایتے ہو؟

~ماریہ عمران

Standard