2014, Urdu musings

عشق پیچے کی طرح۔۔۔

درخت کی دونوں شاخیں پتوں کے غلاف میں ڈھکی ہونے کے باوجود بھی جھلکتی تھیں۔ ان کے مختلف وجود یوں یکجا تھے کہ معلوم ہوتا تھا ایک ہی ہیں۔

مضبوط شاخ جھکی ہوئی شاخ کو اپنے سے لپیٹ کر زندگی عطا کرتی ہے۔ اسکی نشونما میں سارا کمال مضبوط شاخ کا ہے، ورنہ وہ تو کب کی ختم ہوجاتی۔

درخت سے ٹیک کئے دو اور سائے ہیں۔۔ یکجا. ایک سایہ ہونہی ہوتا ہے۔۔ خود سے اتنا قریب کے قدرت بھی نہ چھین سکے۔۔ اور خود سے اتنا دور کے روشنی پڑتے ہی رنگ کھودے۔ اپنا اصل مٹانے میں اسے دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ سایہ پگھل جاتا ہے جب سورج کی کرنیں پڑتی ہیں۔ سایہ تپش برداشت ہی نہیں کرتا۔ سایہ جھوٹ بولتا ہے، وہ کبھی سائیبان بن نہیں سکتا۔

ایک آنکھ نم تھی آنسو بہتے چلے جاتے تھے، دوسری یوں چپ تھی گویا احساس سے عاری ہو۔ حالانکہ جو چپ ہوتا ہے، بعض اوقات صرف وہی محسوس کرسکتا ہے۔ احساس کا معراج اظہار کی کیفیت سے ماورا ہونا ہے۔  ۔

خدا بھی شاید ایک احساس ہے۔ سب سے سچا احساس۔۔

ماریہ عمران۔

Standard