2015, Urdu musings

پت جھڑ

تم بےعزتی کے اس احساس کو نہیں سمجھ سکتے جس کے زیرِبار میں روز حصہ حصہ ٹوٹ رہی ہوں۔  میرا حرف حرف متاثر ہے چوٹ کھائے اس پرندے کی طرح جو اپنے صاف، سفید پروں پر خون کی باریک لکیریں کھنچتے تو دیکھتا ہے مگر بےبسی سے اپنے پَر پھڑپھڑاتے دم توڑ دینے ہی کو آخری آزادی کی صورت سمجھتا ہے۔  اس کے آنسو میرے دل کی دیوار پہ گرتے ہیں، تکلیف ہوتی ہے مجھے جب یہ دیواریں کمزور ہو کر کِر کِر چٹخنے لگتی ہیں۔

تمہاری بےاعتنائی ایک سِل کی مانند میرے وجود پہ رکھی ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں اپنی ہی قبر میں دھنسی چلے جا رہی ہوں۔  آواز دینے کو کوئی یار نہیں ملتا لیکن تمہیں فرق بھی نہیں پڑتا کیونکہ تم صرف کھیلنا جانتے ہو۔  کھیلنا صرف، اور جیتنے سے تمہیں سروکار نہیں ہوتا لیکن شکست دینے سے تمہاری انا کو تسکین ملتی ہے۔  اس کے لئے تم کسی بھی حد سے گذر سکتے ہوکیونکہ تم ایک مرد ہو!  آزاد، خودمختار، بیباک۔۔۔ میں عورت ہوں اپنے جزبات کی غلام، تمہیں جتاتی ہوں تو جَتاتی نہیں۔ نہ کوئی جشن ہوتا ہے نہ ماتم، دونوں ہی مسکرا کر اپنے اپنے راستے چل دیتے ہیں۔  پھر کون صدیوں روئے کسے معلوم!۔۔

12:55— 25/1/15.

PJ

Standard